سنکیانگ ، سچ اور جھوٹ

2021-02-05 16:45:31
شیئر:

ایک مدت سے ، امریکہ اور مغرب میں چین مخالف عناصر چین کی سنکیانگ پالیسی کو بدنام کرنے کیلئے چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا ارتکاب کرتے ہوئے سنکیانگ کے بارے میں بڑی تعداد میں غلط معلومات پھیلارہے ہیں۔ در اصل سنکیانگ کا معاملہ نسلی ، مذہبی ، یا انسانی حقوق کا نہیں ہے ، بلکہ تشدد ، دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کیخلاف جدوجہد کا ہے۔ چینی حکومت نے لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کیلئے سنکیانگ میں قانون کے مطابق انسداد دہشت گردی کے اقدامات اختیار کیَےہیں اور بلا امتیاز نسل و مذھب تمام لوگوں کی فلاح کیلئے کام کیا ہے۔ سنکیانگ میں پائیدار ترقی کے نتیجے میں آج تمام نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے لوگ خوشحال زندگی بسر کر رہے ہیں اور امن و اطمینان سے اپنے روز مرہ کے کام کرتے ہیں۔ دراصل سنکیانگ سے متعلق بہت جھوٹ پھیلائے گئے ہیں ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں اورسچ کیا ہے وہ بھی جانئیے۔امریکہ کے سابق وزیر خارجہ مائک پومپیو تسلسل کے ساتھ ایک جھوٹ کا پرچار کرتے رہے ہیں کہ چینی حکومت نے سنکیانگ میں ویغور اور دیگر نسلی اقلیتوں کی "نسل کشی" کی ہے ۔سچ یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں ، سنکیانگ میں ویغور نسل کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ سنکیانگ میں غربت کا مکمل خاتمہ کیا گیا ہے۔ تمام نسلی گروہوں کے لوگوں کے جائز حقوق اور مفادات کا مؤثر انداز میں تحفظ کیا گیا ہے۔ تمام نسلی گروہ یکساں قانونی حیثیت رکھتے ہیں ، اور سب کو ریاستی امور کے انتظام میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے ، ان کو مذہبی آزادی ، تعلیم ، اپنی بولی اور تحریری زبانیں بولنے اور اپنی روایتی ثقافت برقرار رکھنے کی ضمانت دی گئی ہے۔جھوٹ نمبر ۲: سنکیانگ نے " حراستی مراکز" قائم کیے ہیں جن میں لاکھوں ویغور مسلمانوں کو حراست میں رکھا گیا ہے۔حقیقت: سنکیانگ میں کبھی بھی نام نہاد " حراستی مراکز" قائم نہیں کیے گئے ۔دراصل سنکیانگ میں قائم پیشہ ورانہ تعلیمی اور تربیتی مراکز اسکول ہیں جو قانون کے مطابق قائم کیے گئے ہیں ۔یہ سنکیانگ میں انسداد دہشت گردی اور انسداد انتہاپسندی سے متعلق ایک اقدام ہے جس کا مقصد دہشت گردی اور انتہا پسندی کی وجوہات کا جڑ سے خاتمہ ہے ۔یہ اقدام تشدد اور انتہا پسندی کی روک تھام کے لئے اقوام متحدہ کے ایکشن پلان اور انسداد دہشت گردی سے متعلق بین الاقوامی قراردادوں کے اصولوں اور روح کے مطابق ہے۔ انسداد دہشت گردی کے اس اقدام کے مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں اورسنکیانگ میں گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی یا تشدد کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔مذکوزہ تربیتی مراکز میں قومی زبان ، قانون اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے کورس پڑھائے جاتے ہیں اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے تعلیمی لیکچر دیے جاتے ہیں۔ یہ طریقہ کار بہت موئثر ثابت ہواہے ۔اکتوبر 2019 میں ، سنکیانگ کےمختلف تربیتی مراکز سے فارغ التحصیل ہونے والوں میں سے میں سے بیشتر نے مستحکم ملازمت حاصل کرلی ہے اور پرامن زندگی بسر کر رہے ہیں۔

جھوٹ نمبر ۳: سنکیانگ تربیتی مراکزطلباء پر "مذہبی پاپندیوں" ، سیاسی بے راہ روی ، اور دھمکیوں اور تشدد کا ارتکاب کرتا ہے۔

حقیقت: تربیتی مراکز میں طلباء کی مذہبی آزادی ، نسلی رسم و رواج ، اور ان کی اپنی بولی اور تحریری زبانیں استعمال کرنے کے حق کا پوری طرح احترام اور تحفظ کیا جاتا ہے۔ طلبا کی ذاتی آزادی اور وقار کی پوری ضمانت دی جاتی ہے۔ مراکز میں رہائش کی مکمل سہولیات موجود ہیں۔ تمام تربیت یافتہ افراد سماجی بیمہ جیسے پنشن اور طبی نگہداشت سے لطف اندوز ہوتے ہیں ، اور مفت جسمانی جانچ پڑتال کی سہولت میسر ہے۔

جھوٹ ۴: سنکیانگ نے ویغور آبادی کو ختم کرنے کے لئے نوول کورونا وائرس کا استعمال کیا۔ متعدد لوگ اس وائرس سے متاثر ہو کر المناک طور پر ہلاک ہوگئے ہیں۔

حقیقت: کووڈ-۱۹ پھوٹنے کے بعد ، سنکیانگ کی حکومت نےاس وبا کے خلاف بھر پور جنگ لڑی ہے اور مختصر عرصے میں اس وبا کو مؤثر طریقے سے کنڑول کیا ہے۔ سنکیانگ میں تصدیق شدہ تمام 826 مریض صحت یاب ہو گئے ہیں ، اور کسی کی موت نہیں ہوئی۔

جھوٹ ۵: چین نے سنکیانگ میں اسی ہزار ویغوروں کو جبری مشقت کے لئے دوسرے صوبوں میں واقع فیکٹریوں میں منتقل کیا۔

حقیقت: تمام نسلی گروہوں کے لوگوں کے روزگار کی خواہش اور ضروریات کے مکمل احترام کی بنیاد پر ، سنکیانگ میں ہر سطح کی حکومتوں نے فعال طور پر عوام کو مقامی روزگار ، اور دوسرے صوبوں میں ملازمت کے مواقع فراہم کیے ہیں اور تمام نسلی گروہوں کے لوگوں کے روزگار کے حق کی مکمل ضمانت دیتے ہوئے غربت سے نجات اور خوشگوار زندگی دلانے کی پوری کوشش کی ہے۔

جھوٹ ۶: سنکیانگ نے ویغور ثقافت کو منظم طریقے سے ختم کرنے کی کوشش کی۔

حقیقت: سنکیانگ میں تمام نسلی گروہ اپنے اپنے رسم و رواج اور عادات کو برقرار رکھنے یا اصلاح کرنے کی آزادی سے پوری طرح لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سنکیانگ آئین اور قوانین کی سختی سے پابندی کرتا ہے ، اور تمام نسلی گروہوں کی عمدہ روایتی ثقافت کے تحفظ اور ترقی کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ سنکیانگ کے نسلی گروہوں کی 10 زبانیں انصاف ، انتظامیہ ، تعلیم ، پریس اور اشاعت ، ریڈیو اور ٹیلی ویژن ، اور انٹرنیٹ سمیت شعبوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں۔

جھوٹ۷: چینی حکومت نے سنکیانگ کے اقلیتی بچوں کو بورڈنگ اسکولوں میں بھیج کراپنے والدین سے الگ ہو نے پر مجبور کیا ہے۔

حقیقت: سنکیانگ ایک وسیع علاقہ ہے اور دیہات اور قصبوں کے درمیان فاصلہ لمبا ہے ، طلبا کے اسکول جانے میں بہت مشکلات ہوتی ہیں۔ والدین کے لئے اپنے بچوں کو اسکول لے جانا اور واپس لانا بہت مشکل ہے۔ اس لئے سنہ انیس سو اسی کی دہائی کے اوائل میں سنکیانگ میں 400 بورڈنگ اسکول قائم کئے گئے۔ اس سےمقامی مڈل اور پرائمری اسکولوں کی تعلیم کو جدید بنانے میں مدد ملی اور سنکیانگ میں تمام نسلی گروہوں کے تبادلے کو فروغ ملا۔ سنکیانگ میں بورڈنگ اسکول قائم کرنے کا رواج بنیادی طور پر چین کے دیگر حصوں اور دنیا کے دوسرے ممالک سے مختلف نہیں ہے۔

سنکیانگ کے بارے میں چین مخالف مغربی قوتوں کے جھوٹ بہت زیادہ ہیں۔ لیکن جھوٹ کبھی سچ نہیں بن سکتا۔ جھوٹ سے تھوڑے عرصے کیلئے لوگوں کی آنکھوں میں تو دھول جھونکی جاسکتی ہے زیادہ عرصے کیلئے نہیں ۔ حقائق اور سچ کے سامنے ، جھوٹ بالآخر بے نقاب ہوتاہے اور اپنی موت مرتاہے۔

سنکیانگ ،  سچ اور جھوٹ_fororder_WechatIMG3276