امریکہ کی عراق پر مسلط کردہ جنگ سے اسلامی ممالک کے مفادات کو شدید نقصان پہنچا

2021-07-14 17:16:08
شیئر:

امریکہ کی عراق پر مسلط کردہ جنگ سے اسلامی ممالک کے مفادات کو شدید نقصان پہنچا_fororder_0714伊拉克战争

مارچ دو ہزار تین میں امریکہ نے عراق پر جنگ مسلط کی تھی۔ عراق جنگ سے نہ صرف بین الاقوامی قانون اور  عالمی نظم و ضبط کو پامال کیا گیا بلکہ عراق سمیت دیگر اسلامی ممالک کے مفادات کو بھی شدید نقصان پہنچایا  گیا ہے۔اول، عراق کی معیشت طویل عرصے سے سست روی  کا شکار ہے۔عراق میں امریکی جارحیت کا ایک اہم ہدف یہ بھی تھا کہ عراق کو امریکہ کی رہنمائی میں عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں شامل کیا جائے ۔ تاہم عالمی بنک کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق سال دو ہزار تین کے بعد عراق میں اوسط فی کس آمدنی سال انیس سو نوے کی نسبت بھی کم ہے۔دوم ، عراقی عوام کو سکیورٹی مسائل کا سامنا ہے۔عالمی اعدادوشمار کے مطابق سال دو ہزار تین تا سال دو ہزار بیس ،  تقریباً دو لاکھ آٹھ ہزار پانچ سو  عام عراقی شہری پرتشدد تصادم میں جاں بحق ہوئے ہیں۔ عراق جنگ کے دوران ملک بھر میں بنیادی ڈھانچہ وسیع پیمانے پر تباہ ہوا ہے۔ سرکاری خدمات کی صلاحیت بڑی حد تک کم ہو چکی ہے۔ عوام کو پانی و بجلی اور طبی خدمات کی کمی کا سامنا ہے۔ عراق میں فرقہ وارانہ تنازعات ، نسلی تضادات اور قبائلی تضادات شدت اختیار کرچکے ہیں۔علاوہ ازیں عراق جنگ نے نہ صرف عراق کے قومی مفادات اور اعتماد کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ اسلامی ممالک کے مفادات کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔عراق جنگ کے باعث دنیا بھر میں اسلامی ممالک کی  وقعت کم ہوئی ہے اور اسلامی ممالک کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کی گئی ہے۔ یہ بھی اہم بات ہے کہ عراق جنگ کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔یہ تمام ممالک کی سکیورٹی کے لیے بھی خطرناک ہے۔