عالمی وبا کے خلاف تعاون میں چین کی نئی شراکت ،سی آر آئی کا تبصرہ

2021-08-06 19:55:45
شیئر:

امریکی صدر کے مئی میں جاری کردہ مضحکہ خیز فرمان کے مطابق خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے نوول کوروناوائرس کے ماخذ کے تلاش کی ضرورت ہے۔ اسی بنیاد پر ایک نام نہاد تحقیقاتی رپورٹ نوے روز میں پیش کر دی جائے گی تاہم حتمی رپورٹ سے قبل ہی امریکی میڈیا ، سیاستدانوں ، خفیہ ایجنسیوں وغیرہ نے چین پر الزام تراشی کا کھیل شروع کر رکھا ہے۔پانچ تاریخ کو سی این این نے ایک نام نہاد خصوصی رپورٹ شائع کی ، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں کو تحقیقات کے دوران جینیاتی ڈیٹا کا ایک "خزانہ گھر" ملا ہے ، جس میں ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کا جینیاتی ڈیٹا موجود ہے۔تاہم رپورٹ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسیوں نے یہ معلومات کیسے اور کب حاصل کیں۔"دی وال اسٹریٹ جرنل" نے مئی میں ایک مضمون شائع کرتے ہوئے بنا کسی ثبوت کے ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کے تین ملازمین کے نومبر 2019 میں بیمار ہونے کی کہانی گھڑ لی۔ جولائی میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے وائرس سراغ کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے بعد وال اسٹریٹ جرنل اور دیگر امریکی اور مغربی میڈیا نے ووہان لیبارٹری کے خلاف حملوں کا ایک نیا دور شروع کیا ، جس میں ہر قسم کے سیاسی حربے اپنائے گئے ہیں۔     اس وقت متغیر وائرس کی وجہ سے عالمی وبا میں اضافہ ہوا ہے ، اور دنیا بھر میں متاثرہ مریضوں کی کل تعداد 200 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔امریکی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پانچ تاریخ کو جاری اعداد و شمار کے مطابق ، امریکہ میں مصدقہ کیسوں کی مجموعی تعداد 35.31 ملین سے تجاوز کر چکی ہے ، اور اموات کی مجموعی تعداد 614000 سے زائد ہو چکی ہے ، جو دنیا میں سرفہرست  ہے۔    اس نازک لمحے میں وبا سے لڑنا اولین ترجیح ہے۔ ابھی حال ہی میں پانچ تاریخ کو چین نے اعلان کیا کہ وہ رواں سال دنیا کو ویکسین کی 2 ارب خوراکیں فراہم کرنے کی کوشش کرے گا ، اور ویکسین تعاون کے عالمی منصوبے "کووایکس" کے لیے 100 ملین امریکی ڈالر عطیہ کرے گا۔ یہ عالمی وبا کے خلاف تعاون میں چین کی نئی شراکت ہے۔

امریکہ وبا اور سماجی مسائل سے دوچار اپنے شہریوں کو "محفوظ پناہ گاہ" مہیا کرے ،سی آر آئی کا تبصرہ