حقیقی کثیرالجہتی کے ساتھ مشرقی ایشیا کی مشترکہ ترقی کو فروغ دیا جائے، سی آر آئی کا تبصرہ

2021-10-30 15:30:19
شیئر:

حقیقی کثیرالجہتی کے ساتھ مشرقی ایشیا کی مشترکہ ترقی کو فروغ دیا جائے، سی آر آئی کا تبصرہ_fororder_1

16ویں مشرقی ایشیائی سمٹ حالیہ دنوں اختتام پزیر ہوئی۔ سربراہی اجلاس میں چین نے متعدد  تجاویز پیش کیں جن میں انسداد وبا کے لیے مشترکہ اقدامات، معیشت کی مکمل بحالی کو فروغ دینا، سبز ترقی کو فروغ دینا، اور آسیان کی مرکزی حیثیت  کی حمایت شامل ہیں۔ اس سے نہ صرف مشرقی ایشیائی تعاون کو مضبوط ترغیب ملتی ہے بلکہ ایک بار پھر عملی اقدامات کے ساتھ "حقیقی کثیرالجہتی" کو عملی جامہ پہنایا گیاہے۔
اس وقت انسداد وبا اولین ترجیح ہے۔ آسیان اور چین، جاپان اور جنوبی کوریا (10+3)میکانزم، مشرقی ایشیائی تعاون کااہم محرک ہے، جس میں آسیان اور چین کے درمیان تعاون (10+1) کلیدی عنصر ہے۔ مذکورہ سربراہی اجلاس میں، لوگوں نے دیکھا کہ علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (RCEP) کے جلد از جلد نفاز کے مطالبے سے لے کر، آسیان جامع بحالی فریم ورک کے تحت انضمام کے اعلان تک، اور پھر ایک سبز اور کم کاربن معاشی ترقی کا ماڈل اپنانے تک ، چین نے ہمیشہ علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر تعاون میں وسیع گنجائش کے فروغ پر زور دیا ہے۔ ملائیشین تجزیہ کار عظمی حسن نے نشاندہی کی کہ چاہے پورے آسیان کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے یا پھر اس کے اراکین کے نقطہ نظر سے،آسیان  ہمیشہ چین کو اقتصادی بحالی کے حصول میں ایک اہم پارٹنر کے طور پر دیکھتا ہے۔
تاریخی حقائق نے ثابت کیا ہے کہ نتیجہ خیز مشرقی ایشیائی تعاون کے حصول کی کلید حقیقی کثیرالجہتی پر قائم رہنے، آسیان کی مرکزی حیثیت  کا احترام کرنے اور خطے سے باہر کی بڑی طاقتوں کی مداخلت کو روکنے میں مضمر ہے۔ ترقی کی سطحوں، ثقافتی روایات اور سیاسی نظاموں میں فرق کے باوجود، مشرقی ایشیائی ممالک انسداد وبا  اور معاشی بحالی کی مشترکہ خواہشات رکھتے ہیں، اور خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔