روس یوکرین تنازعہ میں امریکہ کی روایتی الزام تراشی

2022/04/01 16:54:28
شیئر:

روس یوکرین تنازعہ کے تناظر میں کچھ مغربی ذرائع ابلاغ چین کے خلاف اپنی مہم کو تیز کر رہے ہیں، اور یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ چین اس تنازعہ میں روس کا ساتھی ہے۔ یہاں تک کہ وہ یہ دعویٰ کرنے کے لیے کہانیاں بھی گھڑ  رہے ہیں کہ چین کو روس کے فوجی اقدام کے بارے میں پیشگی علم تھا اور اس نے ماسکو سے کہا کہ وہ بیجنگ سرمائی اولمپک گیمز کے اختتام تک اپنی خصوصی فوجی کارروائی موخر کرئے۔اگر چین کو روس کے منصوبے کے حوالے سے کوئی بھی اشارہ ملتا تو وہ یوکرین میں موجود چینی طلباء اور دیگر شہریوں کو تنازعہ سے قبل ہی ملک چھوڑنے کو کہہ دیتا۔ درحقیقت، چین کی انخلاء کی کارروائی دیگر کئی ممالک کے مقابلے میں کافی دیر بعد عمل میں لائی گئی ہے۔ اس سے بھی بدتر الزام یہ ہے کہ کچھ امریکی انٹیلی جنس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ روس  کی درخواست پر چین اسے فوجی سازوسامان اور دیگر اسٹریٹجک امداد فراہم کر سکتا ہے۔ بدنیتی پر مبنی ان افواہوں کی وجہ یہی ہے کہ بیجنگ نے حال ہی میں روم میں منعقدہ اعلیٰ سطحی چین۔امریکہ مذاکرات میں روس یوکرین تنازعہ پر واشنگٹن کی سمت کی تائید  سے انکار کر دیا تھا۔ واشنگٹن کی مایوسی ظاہر کرتی ہے کہ امریکی انتظامیہ نے اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے روس کے عزم کو کم جانا ہے۔ امریکہ اپنی اسٹریٹجک غلطیوں کو چھپانے اور اپنے مذموم مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے،  چین کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔