چینی قوم کے اعتماد میں اضافہ

2022/07/11 16:09:30
شیئر:

اعتماد کامیابی کی کلید ہے۔ آپ کو اپنی ذاتی صلاحیتوں پر اعتماد ہو تو آپ مشکل سے مشکل کام بھی بغیر کسی دباؤ کے باآسانی کر جاتے ہیں۔ اگر یہ اعتماد ملکی قیادت اور نظام پر ہو کر تو پوری قوم ایک جسد واحد کی طرح کام کرتی ہے اور ملک ترقی کی شاہراہ پر ہر روز نئے سنگ میل عبور کرتا ہے۔ چین کی موجودہ ترقی چینی قوم کے اسی اعتماد کا مظہر ہے۔ حالیہ چند برسوں خصوصاً گزشتہ دس برس کے دوران چینی قوم کا اپنے ملکی نظام پر اعتماد بہت زیادہ بڑھا ہے۔ اس اعتماد کا اندازہ ہمیں چین کی کووڈ-19 کی وبا کے خلاف جنگ کے دوران ہوا۔ ہر چینی شہری نے ہر اس ہدایت پر عمل کیا جو اسے وبا کی روک تھام کے لیے دی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ چینی قوم وبا کے خلاف کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

گزشتہ دس برس کے دوران چینی قوم کے اپنے ملک اور نظام پر اعتماد میں اضافے کی ایک اہم وجہ اس دوران حاصل کی گئی کامیابیاں بھی ہیں۔ چین نے گزشتہ دس برس کے دوران تمام شعبوں میں شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ چینی صدر شی جن پھنگ نے حالیہ دنوں  صوبہ حوبئی کے شہر وو ہان کے دورے کے دوران اس بات پر زور دیا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں خود انحصاری اور مضبوطی ملک کی خوشحالی اور سلامتی کی بنیاد ہے۔ ووہان چین میں صنعتوں، سائنس اور تعلیم کا اہم ہب  اور  نقل و حمل کا ایک اہم مرکز ہے۔ یہ دریائے یانگسی کی اقتصادی پٹی اور وسطی چین کی ترقیاتی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ بھی ہے۔چین نیز دنیا کی صنعتی چین میں اس کا اہم کردار ہے۔ چین اب  دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے، اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے صرف وسائل  پر انحصار  کا روایتی طریقہ نہیں چلے گا۔ موجودہ صورتحال میں اختراعات پر انحصار  لازم ہے۔ انٹرپرائزز کو کلیدی ٹیکنالوجیز میں مسلسل کامیابیاں حاصل کرنی چاہیئے،   دانشورانہ املاکی حقوق کی حامل کلیدی ٹیکنالوجیز پر  پیش رفت کو مزید آگے بڑھانا چاہیئے اور صنعتی ترقی میں اپنی مثبت ساکھ  کا بہتر ادراک اور انتظام کرنا چاہیئے۔  2017سے 2021 تک ، چین کی ڈیجیٹل اکانومی کا حجم  27 ٹریلین سے  45 ٹریلین تک پہنچ گیا، جو دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ڈیجیٹل اکانومی کے کل جی ڈی پی کا تناسب انتالیس اعشاریہ آٹھ فیصد تک ہو گیا ہے۔
چین میں اناج کی پیداواری صلاحیت کو مستحکم اور بہتر بنایا گیا ہے، غربت کے خلاف جنگ میں مکمل فتح حاصل کر لی گئی ہے، اور دیہی علاقوں کی ساخت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انسداد غربت کی کامیابیوں کو مستحکم اوروسیع کرنے اور عوام کو دوبارہ غربت کا شکار ہونے سے بچانے کی خاطر  اگلے مرحلے میں متعلقہ محکمے روزگار کے استحکام اور صنعتی امداد پر توجہ دیں گے۔
وزارت  زراعت اور دیہی امور کے شعبہ ترقیاتی منصوبہ بندی کے ڈائریکٹر زینگ یان ڈہ نے کہا کہ موجودہ معیار کے تحت کل 98.99 ملین دیہی غریب لوگوں کو غربت سے نکالا گیا ہے، کسانوں کے لیے روزگار اور آمدنی میں اضافے کو  مسلسل توسیع دی گئی ہے۔دیہی ماحولیات کو نمایاں طور پر بہتر کیا گیا ہے، اور دیہی معاشرے میں استحکام اور  اطمینان برقرار رکھتے ہوئے دیہی علاقے کی جدیدیت  کے لئے  ایک مضبوط بنیاد رکھی گئی ہے۔  ین کی اقتصادی طاقت گزشتہ دس برسوں  میں ایک نئی سطح پر پہنچ  چکی ہے۔ کل اقتصادی حجم 2012 کے 53.9 ٹریلین یوآن سے بڑھ کر 2021 میں 114.4 ٹریلین یوآن تک پہنچ گیا ہے ، اور عالمی معیشت میں اس کا تناسب 11.3 فیصد سے بڑھ کر 18 فیصد سے تجاوز کر گیا ہےاور فی کس جی ڈی پی 6300 امریکی ڈالر سے بڑھ کر  12000 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین  کا انوویشن انڈیکس کچھ اہم شعبوں میں تاریخی ترقی  حاصل کرتے ہوئے، دنیا میں 12ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔
چین میں ذرائع نقل و حمل کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے  کہ2012سے 2021 کے آخر تک، چین کی  شاہراہوں اور ریلوے کا نیٹ ورک تقریباً 1.1 ملین کلومیٹر تک بڑھ  چکا ہے۔ اس وقت  چین میں ہائی ویز کا  نیٹ ورک 160,000 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ گزشتہ دس سالوں میں  چائنا روڈ اور چائنا برج چین میں خوبصورت بزنس کارڈ بن چکے ہیں۔ چینی شاہراہیں،  راستے میں صحراؤں، نخلستانوں، پہاڑوں، وادیوں یا میدانی علاقوں سے گزرتی ہے، لوگوں  کو چین کی دلکشی دکھاتی ہیں اور ایک حقیقی خوبصورت چین کی عمدہ ترجمانی کرتی ہیں۔
زبیر بشیر، بیجنگ