امریکہ ،برطانیہ اور آسٹریلیا کے افغانستان میں انسانیت سوز مظالم ، سی ایم جی کا تبصرہ

2022/07/19 09:47:01
شیئر:

بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق برطانوی فوجی رپورٹس، ای میلز، اور جائے وقوعہ پر گولیوں کے خول جیسے شواہد بتاتے ہیں کہ افغانستان میں تعینات برطانوی اسپیشل فورسز کے سابق ارکان نے بارہا جنگی قیدیوں اور غیر مسلح شہریوں کو قتل کیا ہے، اور یہاں تک کہ یہ مقابلہ بھی کیا گیا ہے کہ کون کتنے افراد کو ہلاک کرتا ہے۔ اس دوران چھ ماہ کے عرصے میں غیر قانونی طور پر 54 افراد کو ہلاک کیا گیا ہے۔

برطانوی وزارت دفاع نے جرم  بے نقاب ہونے کے بعد نہ تو معافی مانگی اور نہ ہی کسی کو جوابدہ ٹھہرایا، بلکہ بی بی سی کی رپورٹ پر "غیر ذمہ دارانہ اور غلط مواد" اور "فرنٹ لائن فوجیوں کو خطرے میں ڈالنے" کا الزام لگاتے ہوئے اسے چھپانے کی کوشش کی۔ برطانوی جریدے "گارجین" نے ایک اداریے میں نشاندہی کی کہ موجودہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانوی فوجیوں نے افغانستان میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا، درحقیقت یہ صرف برطانوی فوجی ہی نہیں جو بے گناہ لوگوں کی ہلاکت میں ملوث رہے ہیں بلکہ  ایک تحقیقاتی رپورٹ میں آسٹریلوی فوجیوں کے ہاتھوں بھی افغانستان میں عام شہریوں کے قتل عام کا انسانیت سوز فعل سامنے آیا ہے۔ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے تو  افغانستان میں 20 سالہ جنگ کے دوران 174,000 افغانوں کی جانیں گئیں جن میں 30,000 عام شہری بھی شامل ہیں۔

امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا سمیت  دیگر ممالک میں تو  "انسانی حقوق" کے تحفظ کا دعویٰ کرتے رہتے ہیں مگر وہ بیرون ملک بے گناہ لوگوں کے اندھا دھند قتل کی وضاحت کیسے کریں گے؟ان ممالک نے بار بار بین الاقوامی قانون اور انسانی ضمیر کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کے مظالم تمام بنی نوع انسان کے خلاف جرائم ہیں، اور عالمی برادری کو ان کا انجام تک پیچھا کرنا چاہیے اور  متاثرین کو انصاف دلانا چاہیے۔