شنگھائی تعاون تنظیم اور "بیلٹ اینڈ روڈ" کی ہم آہنگ ترقی سے سود مند تعاون کی کامیابی

2022/09/13 16:00:38
شیئر:


14 سے 16 ستمبر تک چینی صدر شی جن پھنگ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے اور قازقستان اور ازبکستان کے سرکاری دورے کریں گے۔  وبا کے  عالمی پھیلاو کے بعد  چین کے رہنما اعلیٰ کا یہ پہلا بیرونِ ملک دورہ ہے۔پہلا پڑاؤ قازقستان ہے اور وہ سمرقند  سمٹ میں ایس سی او کے رکن ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آنے والے دنوں میں  دنیا کی نظریں وسطی ایشیا اور سمرقند پر مرکوز ہوں گی۔اس سمٹ  میں چین  "دنیا کہاں جا رہی ہے اور بنی نوع انسان کو کیا کرنا چاہیے"جیسے سوالا ت کے تناظر میں  کیا دانش و   منصوبہ بندی پیش کرے گا ؟   آئیے ہم انتظار کریں اور دیکھیں ۔

ایس سی او کے زیادہ تر ممالک قدیم شاہراہ ریشم  کے کنارے پر  واقع ہیں اور طویل تاریخ ہر ایک کو ایک ہی جذبےاور ترقی کی مشترکہ خواہش کا حامل بناتی ہے۔ ستمبر 2013 میں، صدر شی جن پھنگ نے پہلی بار قازقستان میں "سلک روڈ اکنامک بیلٹ"  انیشیٹو کی مشترکہ تعمیر کی تجویز پیش کی  ؛ ستمبر 2014 میں، دوشنبہ سربراہی اجلاس میں،  شرکاء نے "سلک روڈ اکنامک بیلٹ" کی تعمیر  میں  فعال شرکت کرنے پر اتفاق کیا؛   جولائی 2015 میں اوفا سمٹ میں سلک روڈ اکنامک بیلٹ کی مشترکہ تعمیر کو سربراہی اجلاس کے اعلامیے میں شامل کیا گیا؛ جون 2016 میں تاشقند سمٹ میں شریک  تمام ممالک نے اس پر اتفاق کیا کہ  اس انیشیٹو کے نفاذ پر کام جاری رکھیں گے۔  اس کے بعد سے  ایس سی او اور "بیلٹ اینڈ روڈ" کی  ہم آہنگ ترقی کا آغاز  ہو گیا ، اور "بیلٹ اینڈ روڈ" کی مشترکہ تعمیر نے  تمام  فریقوں کے لیے سود مند  تعاون  اور جیت جیت کے لیے ایک وسیع پلیٹ فارم فراہم  کیا ہے ۔

گزشتہ 9 سالوں کے دوران، ایس سی او  کے رکن ممالک نے "بیلٹ اینڈ روڈ"  انیشیٹو  کو ابتدائی خاکے سے لے کر حقیقت تک، تصور سے لے کر  نتائج  تک  مشترکہ تعمیر  کے  اس  عظیم  عمل میں فعال طور پر حصہ لیا  ہے۔ "بیلٹ اینڈ روڈ" کی تعمیر کی مضبوط  ترقی کے ساتھ، ایس سی او فیملی نے  ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے  ہوئے "بیلٹ اینڈ روڈ" کی مشترکہ تعمیر میں  شرکت  کی اور  نتیجہ خیز نتائج حاصل کیے ہیں۔ ایس سی او   سے وابستہ  علاقے میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، بشمول ہائی ویز، ریلوے اور تیل و گیس کی پائپ لائنوں نے علاقائی رابطوں کی سطح کو بہت بہتر بنایا ہے؛  2019 میں جب سے چین-شنگھائی تعاون تنظیم مقامی اقتصادی اور تجارتی تعاون کا  مثالی زون  ،  چین کے شہر  چھنگ ڈاؤ   میں قائم ہوا ہے،  ایس سی او سے متعلق  ممالک اور "بیلٹ اینڈ روڈ"  سے وابستہ  ممالک اور خطوں کے ساتھ تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ  ہوا ہے  ؛ " یوریشین ٹرین  ایس سی او  ایکسپریس  کا  چین کے شہر  چھنگ ڈاؤ   سے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند   تک  آمدورفت  کا آغاز ہو چکا ہے اور  چین پاک  اقتصادی راہداری کی تعمیر میں تیزی آئی ہے ... ایسی بے شمار شاندار  واقعات ہیں، "بیلٹ اینڈ روڈ" نے شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک کے درمیان فاصلے کو  کم  کیا ، تعاون کے رشتوں کو مزید قریب کر دیا،   سود مند تعاون  وسیع تر ہونے کے ساتھ ساتھ  ترقی کے زیادہ سے زیادہ  نئے مواقع فراہم کیے ہیں۔

قدیم شاہراہ ریشم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کےعوام کے درمیان گہری دوستی کا مشاہدہ کیا ہے ۔ آج "ایس سی او  فیملی" مسلسل  ترقی کر رہی ہے اور  بڑھ رہی ہے  ، اور اس کا بین الاقوامی اثر بھی  بڑھ رہا ہے۔ چاہے یہ شنگھائی تعاون تنظیم ہو یا "بیلٹ اینڈ روڈ"  انیشیٹو  ، ان سب کا مشترکہ مقصد ایک ہی  ہے کہ  بنی نوع انسان کے  ہم نصیب معاشرے  کی تشکیل اور مشترکہ طور پر ایک ہم آہنگ، ترقی پذیر اور خوشحال دنیا کی تعمیر کے لیے بھر پور کوشش کی جائے ، اور   اسی مساوی  فلسفے کی وجہ سے مجھے یقین ہے کہ ایس سی او کی  ترقی کا راستہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جائے گا  ۔موجودہ  ایس سی او سربراہی اجلاس کے متوقع نتائج  کا انتظار ہے۔