لاطینی امریکی تارکین وطن کے المیے کے پیچھے ایک " ڈراؤنا امریکی خواب" ،سی ایم جی کا تبصرہ

2022/09/20 09:19:05
شیئر:

18 تاریخ کو فاکس نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، یو ایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن حکام نے بتایا کہ مالی سال 2022 (یکم اکتوبر 2021 سے شروع ہونے والے) میں 782 تارکین وطن امریکہ۔ میکسیکو سرحد عبور کرتے ہوئے ہلاک ہوئے، جو کہ اموات کی ایک ریکارڈ تعداد ہے۔ صرف ستمبر میں تارکین وطن کی 30 اموات سامنے آئی ہیں۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے امریکہ۔میکسیکو سرحد کو دنیا کی مہلک ترین زمینی ہجرت کے راستے کے طور پر قرار دیاہے۔
زمینی حقائق پر نگاہ دوڑائیں،تو  لاطینی امریکی امیگریشن کا مسئلہ طویل عرصے سے لاطینی امریکہ کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت کا نتیجہ ہے۔ میکسیکو کے صدر انڈریس لوپیز نے ایک مرتبہ نشاندہی کی تھی کہ تارکین وطن غربت اور روزگار کے مواقع کی کمی کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑ دیتے ہیں۔اگر امریکہ نہیں چاہتا کہ تارکین وطن کا سلسلہ جاری رہے تو اسے وسطی امریکی ممالک کو اپنی معیشتوں کو ترقی دینے میں مدد کرنی چاہیے۔ لیکن اس سلسلے میں، امریکہ ہمیشہ محض بیان بازی کرتا رہا ہے۔ درحقیقت امیگریشن کے المیے کا براہ راست تعلق امریکہ کی انتشار انگیز امیگریشن پالیسی سے ہے۔ اس کے علاوہ، امریکہ میں سیاسی انتہا پسندی کے رجحان کے تناظر میں ، امیگریشن کا مسئلہ دو بڑی سیاسی جماعتوں  کے لیے ایک سیاسی آلہ بن گیا ہے۔
حالیہ برسوں میں، میڈیا نے بار بار  امریکی حکومت کی جانب سے تارکین وطن کے ساتھ ناروا سلوک کو بے نقاب کیا ہے۔ لاطینی امریکی تارکین وطن کے لیے، امریکی خواب ایک " ڈراؤنا امریکی خواب" ثابت ہوا ہے۔