انصاف میں تاخیر تو ہو سکتی ہے، مگر انصاف ہو گا ضرور

2022/12/05 18:01:39
شیئر:

متعدد امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی پراسیکیوٹر کی درخواست پر امریکی عدالت نے 2 دسمبر کو    چین کی ہوا وے کمپنی کی ڈپٹی چیئرپرسن اور چیف فنانشل آفیسر منگ وان ژو  کے خلاف   نام نہاد "بینک فراڈ" سمیت تمام الزامات کو باضابطہ طور پر  ختم کرد یا ہے اور استغاثہ  دوبارہ مقدمہ دائر نہیں کرسکتا۔

یاد رہے کہ یکم دسمبر ، 2018  کو  کینیڈا نے "امریکی درخواست پر" وینکوور ہوائی اڈے سے گزرتے ہوئے منگ وان ژو کو حراست میں لیا تھا ، ان پر ہواوے کے ایران میں کاروبار  سے متعلق ایچ ایس بی سی کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ٹھیک چار سال بعد، امریکہ نے ان پر عائد تمام الزامات ختم کر دیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے چینی ہائی ٹیک ٹیکنالوجی اور ہواوے جیسے  چینی اداروں کو دبانے کے لیے کیسے  ایک چینی شہری پر بے ایمانی سے ظلم و ستم کیا ہے۔

درحقیقت امریکہ نے ہمیشہ چین کی اعلیٰ و جدید ٹیکنالوجی کو زیرتسلط لانے کی کوشش کی ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس میں شدت آئی ہے۔سابق ٹرمپ انتظامیہ کی مدت کے دوران غیر معقول پالیسیوں کا ایک سلسلہ جاری کیا گیا، جس میں امریکہ میں ہواوے کی مصنوعات کی فروخت پر پابندی ، امریکی کمپنیوں پر ہواوے کے ساتھ کاروبار کرنے  پر پابندی ، اور دنیا بھر میں امریکی ٹیکنالوجی، امریکی سافٹ ویئر اور امریکی سازوسامان  استعمال کرنے والی تمام کمپنیوں کو ہواوے کو چپس فراہم کرنے پر پابندی وغیرہ شامل ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل ہی امریکی صدر جو بائیڈن نے چین کے لیے ہائی ٹیک مصنوعات کے ایکسپورٹ کنٹرول سے متعلق ایک فرمان پر بھی دستخط کیے تھے جس کا بنیادی مقصد چین کو متعلقہ ٹیکنالوجی سے وابستہ مصنوعات کی فروخت پر مزید پابندی عائد کرنا اور دیگر ممالک کو "چپ اتحاد" کی تشکیل کے لیے راغب کرنے کی کوشش ہے تاکہ ہائی اینڈ چپس اور لیتھوگرافی مشینوں سمیت مصنوعات کو چین برآمد کرنے سے روکا جا سکے۔7اکتوبر کو 31 چینی کمپنیوں اور تحقیقی اداروں کو  امریکی حکومت کی جانب سے ایک فہرست میں رکھا گیا جس نے اُن کی ریگولیٹڈ امریکی سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز تک رسائی کو محدود کر دیاہے ۔ 25 نومبر کو امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن نے ہواوے اور زیڈ ٹی ای سمیت پانچ چینی کمپنیوں سے ٹیلی کمیونیکیشن آلات کی درآمد اور فروخت پر پابندی کا اعلان کیا ۔تاحال  اگلے مرحلے کا علم نہیں کہ امریکہ چینی کمپنیوں کو دبانے کے لیے اور  کون سی پابندیاں عائد کرے  گا لیکن ایک بات تو طے ہے کہ چین کی سائنسی اور تکنیکی ترقی کو روکنے کے لیے امریکہ کے اقدامات بلاشبہ  نا کام ہوں گے  کیونکہ انصاف میں تاخیر ہو سکتی ہے، لیکن بالآخر یہ ہو گا ضرور ۔

آج کی گلوبلائزڈ دنیا میں چین کے صدر شی جن پھنگ  نے دنیا کی مشترکہ ترقی کا راستہ تلاش کرنے کے لیے گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو  پیش کیا ہے ،جس سے  دنیا نے ایک بڑے ملک کی ذمہ داری  ، دانش اور جذبے کو دیکھا ہے۔ لیکن اس کے برعکس امریکہ   ہائی ٹیک میدان میں چین کی ترقی کو روکنے  ،  عالمی میدان میں اپنی اجارہ داری کو برقرار رکھنے اور "قومی سلامتی کے لیے خطرے " کے بہانے ہواوے جیسی چینی ہائی ٹیک انٹرپرائزز کو دبانے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کر رہا ہے ، جسے یقینی طور پر بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔ جرمن وزارت اقتصادیات کے ترجمان نے دو دسمبر کو واضح کیا کہ جرمنی کا امریکہ کی  روش پر عمل کرنے اور ہواوے جیسی چینی ٹیلی کمپنیوں کی تیار کردہ مصنوعات پر مکمل پابندی عائد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ نیدرلینڈز ایک اہم لیتھوگرافی مشین بنانے والا ملک ہے ، اس نے  حال ہی میں یہ خیال ظاہر کیا کہ وہ چین کو متعلقہ چپ مینوفیکچرنگ مصنوعات کی برآمد  جاری رکھے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ آج دنیا کی نمبر ایک سائنسی اور تکنیکی طاقت ہے۔ اگر امریکہ  دوسرے ممالک کو ایک ساتھ  مل کر مشترکہ   ترقی کرنے سے روکتا ہے  اور اپنی  قومی طاقت کا غلط استعمال  کرتے ہوئے دوسرے ممالک کی ترقی کو بدنیتی سے دباتا ہے تو  یہ نہ صرف غیر معقول اور تسلط پسندانہ ہے، بلکہ امریکی خود اعتمادی میں کمی کا بھی مظہر  ہے ۔ چین یقینی طور پر ترقی کرے گا، کیونکہ کوئی بھی طاقت چین کی ترقی کی رفتار کو روک نہیں سکتی ،اس لیے  چین کی ہائی ٹیک صنعت کو  وسیع اور مضبوط ہونے سے روکنے کی امریکہ کی تمام  کوششیں  لامحالہ ناکام ہو ں  گی ۔