دم توڑتا ہوا نیٹو، ایشیا بحرالکاہل خطے میں بڑے تصادم برپا نہیں کر سکتا، سی ایم جی کا تبصرہ

2023/02/01 15:08:02
شیئر:

31 جنوری کی شام کو جاپان کے دورے پر گئے نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ اور جاپانی وزیر اعظم فومیو کیشیدا نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ دونوں فریق میری ٹائم سیکیورٹی، سائبر اسپیس، اسلحے کے کنٹرول اور دیگر شعبوں میں تعاون کریں گے ۔بیان میں چین کی فوجی طاقت اور تائیوان کے مسئلے کا ذکر کیا گیا ۔جاپانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ تقریباً چھ سالوں میں نیٹو کے کسی سیکرٹری جنرل کا جاپان کا یہ پہلا دورہ ہے اور جاپان اور نیٹو "تیزی سے قریب آ رہے ہیں۔"
 اس سے قبل اسٹولٹن برگ نے بھی اپنے دورہ جنوبی کوریا کے دوران چین پر انگلی اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ چین 'مغربی اقدار، مفادات اور سلامتی کے لیے چیلنج' ہے۔ سرد جنگ کی پیداوار کی حیثیت سے ، نیٹو امریکہ کی نام نہاد "انڈو پیسیفک حکمت عملی" کی روشنی میں ،چین کو ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں اپنے اثرات مرتب کرنے  کے بہانے کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور سرد جنگ کا خوف لا رہا ہے۔ یہ ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں اعلی درجے کی چوکسی کا مستحق ہے۔
 نیٹو دنیا کا سب سے بڑا فوجی اتحاد ہے۔ اپنے قیام کے بعد سے، یہ امریکہ کے لئے  گروہی محاذ آرائی میں مشغول ہونے کا ایک آلہ رہا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی نیٹو نے اپنا مقصد اور سمت کھو دی اور اسے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 'دماغی موت' سے تشبیہ دی۔ گزشتہ سال کے اوائل میں یوکرین کے بحران کے آغاز کے بعد امریکہ نے نیٹو کی بحالی کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور یہاں تک کہ چین پر قابو پانے اور امریکی طرز کی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے 'نیٹو کا ایشیا بحرالکاہل ورژن' کاپی کرنا بھی چاہتا ہے۔
 ایشیا بحرالکاہل کے خطے کے ممالک کی بھاری اکثریت واضح طور پر امریکہ اور نیٹو کی مشرق کی طرف رسائی کی  سازش کو دیکھ سکتی ہے، اور پختہ طور پر "نہیں" کہتی ہے۔ آج کا نیٹو ایک بڑی طاقت کی طرح دکھائی دیتا ہے، لیکن یہ اصل میں دم توڑ رہا ہے جو  ایک حقیقت ہے جسے کوئی بھی ہائی پروفائل سیاسی تماشا چھپا نہیں سکتا۔ ایشیا بحرالکاہل کا خطہ بڑی طاقتوں کے لیے محاز آرائی پربا کرنے کا میدان نہیں ہے اور ایشیا بحرالکاہل کے خطے کے عوام 'نئی سرد جنگ' میں ملوث ہونے کی کسی بھی کوشش پر رضامند نہیں ہوں گے اور زمانہ اس کی اجازت نہیں دے گا۔