امریکہ کی چین کو بدنام کرنے کی بھونڈی کوششیں ،سی ایم جی کا تبصرہ

2023/03/26 15:55:08
شیئر:

حالیہ دنوں، امریکہ نے چین کو بدنام کرنے کی کوشش میں "سیاسی ٹریسیبلٹی" کو بھڑکانا شروع کر دیا ہے۔ 2021 میں امریکی حکومت نے انٹیلی جنس سروسز کو حکم دیا تھا کہ وہ 90 دن کے اندر نام نہاد کورونا وائرس ٹریسیبلٹی رپورٹ تیار کریں۔ نتیجتا رپورٹ "شاید" اور "ہو سکتا ہے " کے الفاظ سے بھری ہوئی تھی، جسے بیرونی دنیا نے بھی ایک مذاق کے طور پر لیا۔ اس  مرتبہ بھی یہ ایک مضحکہ خیز سیاسی تماشے کی تکرار سے زیادہ کچھ نہیں ۔
وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی محکمہ توانائی کی جانب سے وائٹ ہاؤس اور کانگریس کو فراہم کردہ ایک خفیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس ممکنہ طور پر چینی لیبارٹری سے حادثاتی طور پر لیک ہوا۔ لیکن مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ امریکی محکمہ توانائی نے خود اس رپورٹ کو "کم اعتماد" کے طور پر گردانا ہے۔ دوسرے لفظوں میں امریکہ نے بغیر کسی ثبوت کے ایسی نام نہاد رپورٹ پیش کی جس پر وہ خود بھی یقین نہیں کر سکتا اور پھر نام نہاد "لیبارٹری لیک تھیوری" کو مزید تقویت دینے کے لئے مسلسل شور مچایا گیا۔
 امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں ماہ کے اوائل میں ایوان نمائندگان کی نئی قائم کردہ ذیلی کمیٹی نے وبائی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے اپنی پہلی سماعت کی۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ سماعت کے خیالات یکطرفہ تھے اور "لیب لیک تھیوری" کے علاوہ امکانات کے بارے میں بہت کم بات چیت ہوئی۔ دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے محققین بدنیتی پر مبنی حملوں کے خوف سے اس مسئلے کے بارے میں عوامی طور پر بات کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔
وسیع تناظر میں یہ سیاسی تماشہ چین کے بارے میں امریکہ کی گہری تزویراتی تشویش کو بے نقاب کرتا ہے۔ سرد جنگ کی ذہنیت اور چین کے بارے میں غلط تاثر کی بنیاد پر امریکہ چین کو اپنا سب سے بڑا تزویراتی حریف سمجھتا ہے اور مختلف انداز سے اس پر دباو ڈالتا ہے۔ چین کو بدنام کرنے اور اس پر حملہ آور ہونے کے ناجائز طریقے ان میں سے ایک ہیں۔