گوانگ چو میلہ: ایک کھڑکی، ایک پل

2023/04/19 16:43:19
شیئر:

 

گوانگ چو  میلہ ، جس کا مکمل نام چائنا  امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ فیئر ہے ، چین کی سب سے بڑی بین الاقوامی تجارتی نمائش ہے ۔یہ میلہ 1957 سے ، ہر سال دو بار  موسم بہار اور خزاں میں چین کے جنوبی صوبہ گوانگ دونگ کے صدر مقام گوانگ چو  میں منعقد ہوتا ہے ۔ حال ہی میں منعقد ہونے والے  133 ویں گوانگ چو  میلے  میں 35000 آف لائن نمائش کنندگان ، 220 سے زائد ممالک اور خطوں سے آنے والے لاکھوں خریدار شرکت کر رہے ہیں ،جن کی یہ تعداد  ایک نیا  ریکارڈ  ہے۔

چین کی کھلی  پالیسی پر عمل درآمد  کے ایک اہم حصے کے طور پر ، گوانگ چو  میلہ  ایک کھڑکی اور پل کا کردار ادا کرتا ہے ،  چین اور دنیا کے مابین باہمی تفہیم کا راستہ ہموار کرتا ہے  اور تبادلے قائم کرتا ہے ۔یہ عوامی جمہوریہ چین کی ترقی کی تاریخ میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔

1949ء میں عوامی جمہوریہ چین  قائم ہوا۔ مغربی سیاسی محاصرے اور معاشی ناکہ بندی کا سامنا کرتے ہوئے 25 اپریل 1957ء کو گوانگ چو  میں، چین سوویت دوستی عمارت میں پہلے گوانگ چو میلے کا انعقاد ہوا ۔اس میلے  میں طے ہونے والے کاروباری لین دین کی مالیت  86 ملین امریکی ڈالر تھی۔ 1958ء میں یہ تعداد  279 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ گوانگ چو  میلے نے  کاروباری حجم کے حقیقی اعداد و شمار کے ذریعے  مغربی ممالک کی ان افواہوں کو  یکسر ختم کر دیا  کہ عوامی جمہوریہ چین اپنے آپ کو دنیا سے الگ تھلک رکھے گا اور دنیا کے ساتھ اشتراک نہیں کرے گا۔مزید یہ کہ گوانگ چو میلے نے  عوامی جمہوریہ چین کی صنعت کاری کے عمل کے لئے ابتدائی مالی بنیاد فراہم کی اور اسے تحریک دی، دنیا کے لئے ایک چینل کھول دیا، اور عوامی جمہوریہ چین کو ایک اچھی اسٹریٹجی کی بنیاد پر دنیا کے ساتھ ضم ہونے کا ایک بہترین راستہ فراہم کیا۔

گزشتہ  65 برس  میں 133 گوانگ چو میلوں کا انعقاد ہو چکا ہے ۔اس دوران یہ میلہ کبھی نہیں رکا، مسلسل دنیا کو ایسے مضبوط اشارے بھیج رہا ہے، جو چین کے کھلے پن کو وسعت دینے کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔ اب یہ میلہ چین کی غیر ملکی تجارت اور اس کی ترقی  کا "بیرومیٹر" بن چکا ہے. دنیا کو درپیش غیر یقینی صورتحال اور عالمی تجارتی  کساد بازاری کے  دباؤ کے باوجود   چین کی بیرونی تجارت  منفی  رجحان کے اثرات پر قابو پا کر دنیا کی توقعات سے بھی  آگے بڑھ چکی ہے.  بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر  کرسٹینا جارجیوا نے حال ہی میں کہا تھا کہ چین کی معیشت تیزی سے بحال ہو رہی ہے اور توقع ہے کہ اس سال عالمی اقتصادی نمو میں چین کا حصہ تقریبا ایک تہائی تک پہنچ جائے گا، جس سے دیگر ممالک کی ترقی میں تیزی آئے گی۔ لہذا اس سال کا گوانگ چو میلہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں خاص طور پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔ وبا کے تین سال بعد اس میلے کی  آف لائن نمائشوں کی مکمل بحالی بلاشبہ مستقبل میں چین اور دنیا کے اعتماد کے لیے انتہائی اہم ہے۔جدید  عالمی معیشت میں اعتماد بنیادی محرک قوت کا کردار ادا کرتا ہے اور سرمائے اور طلب دونوں اعتماد کی رہنمائی کے تحت چلتے  ہیں. اس سال کے گوانگ چو میلے میں 200 سے زائد ممالک اور خطوں کے کاروباری ادارے شرکت کر رہے ہیں اور کاروباری لین دین کا  ایک نیا  ریکارڈ قائم ہونے کی توقع ہے۔ یہ عظیم الشان بین الاقوامی تجارتی ایونٹ وبا کے بعد عالمی معیشت کے اعتماد   کی بحالی کے لئے مضبوط حمایت فراہم کر رہا ہے۔

یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ پاکستان اس گوانگ چو میلے کے اہم شراکت داروں میں سے ایک ہے۔ متعدد پاکستانی سرکاری عہدیداروں اور کاروباری افراد نے میلے میں شرکت کی، جس نے چینی مارکیٹ میں پاکستان کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے ۔ گوانگ چو میں پاکستانی قونصلیٹ کے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کونسلر محمد عرفان کا کہنا ہے کہ یہ گوانگ چو میلہ تاریخ کا سب سے بڑا میلہ ہے ، اب بھی بہت سے ممالک کے تاجر  ایسے ہیں جو  اس میں شرکت کرنا چاہتے ہیں لیکن ایسا کر نہیں سکیں۔ ہم  مزید تاجروں کی شرکت کے لیے اکتوبر میں ہونے والے 134 ویں گوانگ چو میلے کے منتظر ہیں۔ عرفان نے کہاکہ گوانگ چو میلے میں شرکت کے دوران، آپ کو نہ صرف چینی بلکہ بین الاقوامی خریدار بھی مل سکتے ہیں. یہاں کے لوگ پاکستانی مصنوعات کو بہت پسند  کرتے ہیں، پاکستانی مصنوعات کا 33 فیصد ہمارے قونصلر خطے  میں موجود  پانچ صوبوں کو برآمد کیا جاتا ہے. ہمیں پاکستانی مصنوعات کی برانڈنگ، کوالٹی اور اسٹینڈرڈائزیشن کو بہتر بنا کر اس شعبے پر مزید  توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اجلاس میں شریک پاکستانی حکام اور تاجروں کا کہنا ہے کہ گوانگ چو میلہ پاکستانی کاروباری اداروں کو چینی مارکیٹ کو وسعت دینے کا موقع اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر کے لیے مزید تعاون کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ گوانگ چو میلے کے ذریعے پاکستانی کاروباری ادارے چینی مارکیٹ کی ضروریات اور صارفین کی پسند اور  ترجیحات کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ چینی مصنوعات اور ٹیکنالوجیز کے بارے میں مزید جان سکتے ہیں جس سے پاک چین تجارتی تبادلوں کی ترقی کو مزید فروغ ملے گا۔