خوبصورت آسمان کے لیے خوبصورت سمندر ضروری ہے

2023/06/06 16:18:55
شیئر:

یکم جون کو بین الاقوامی یوم اطفال کے موقع پر جاپانی ڈائریکٹر ہایاؤ   میازاکی کی اینیمیٹڈ  فلم "  کیسل ان دی سکائی " کی چین کے سینماگھروں میں اسکریننگ کا آغاز  ہوا ۔ایک بلند و بالا درخت پر بنایا گیا "کیسل ان دی سکائی " ماحول کی  قدرتی خوبصورتی کی عکاسی کرتا ہے ۔تاہم حقیقت یہ ہے کہ نیلے سمندرمیں بے شمار جاندار جوہری  آلودہ پانی کی وجہ سے  سنگین خطرے  سے دو چار ہیں۔اپریل دو ہزار اکیس سے جاپانی حکومت اور ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی فوکوشیما جوہری آلودہ پانی  کے سمندر میں  اخراج کی تیاری کر رہے ہیں۔اس منصوبے پر عمل درآمد   عنقریب شروع  ہونے والا ہے جس سے سمندری ماحول اور اس سے ملحق  غذائی تحفظ پر لوگوں کی تشویش میں اضافہ ہورہا ہے۔

 فوکوشیما جوہری پاوراسٹیشن کی لیکچ کے اثرات ابھی تک ختم نہیں ہوئے۔ماہی گیری اور زراعت پر نقصانات  سمیت پوری سمندری حدود میں آلودگی کے شدید  خدشات  کے پیش نظر مقامی  افراد  کی اکثریت جوہری  آلودہ  پانی کے سمندر میں اخراج کی مخالفت کررہے ہیں ۔   دو ہزار اکیس میں جاپانی حکومت کی جانب سے سمندر  میں آلودہ پانی کے اخراج کا فیصلہ سنا ئے جانے کے بعد،مقامی باشندوں نے اس فیصلے کی مخالفت  میں  اب تک تیس سے زائد مظاہرے کیے ہیں۔جنوبی کوریا کی حزب اختلاف منجو پارٹی کے زیراہتمام ایک سرگرمی میں،صرف تین دنوں میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے جاپان کے اس منصوبے کی مخالفت میں دستخط کیے۔ایک سروے  کے مطابق جنوبی کوریا کے  85.4    فیصد جواب دہندگان آلودہ پانی کے سمندر  میں  اخراج شدید مخالف ہیں ۔ نیوزی لینڈ کے  ماہرین نے حال ہی میں نشاندہی کی ہے کہ جاپان کا منصوبہ بحرالکاہل  ممالک کی سلامتی اور خودمختاری کو براہ راست نظرانداز کرتا ہے۔ پیسیفک آئی لینڈز فورم کے سکریٹری جنرل ہینری پونے اور فجی کے نائب وزیر اعظم کامیکامیکا نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر اے ایل پی ایس ٹریٹڈ پانی محفوظ  ہوتا ہے  تو جاپان میں اسے مینوفیکچرنگ اور زراعت جیسے دیگر مقاصد کے لئے دوبارہ استعمال کیوں نہیں کیا جاتا؟

پانچ جون کو  50 واں  عالمی یوم ماحولیات منایا  گیا ۔سال 1973 سے اب تک ہر سال  اس دن مختلف  تقریبات منعقد کی جاتی ہیں تاکہ لوگوں کو یاددہانی  کروائی جائے کہ انسانوں کے پاس  صرف ایک کرہ ارض ہے  جس کی حفاظت بذات خود انسانوں کی حفاظت ہے۔کرہ ارض کے 70 فی صد رقبے پر سمندر ہے جس کا آب و ہوا پر گہرا اثر ہے اور  یہ انسان کی خوراک کا اہم ذریعہ بھی ہے۔  اس لیے سمندر کی حفاظت  انسان کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ جاپان کا جوہری آلودہ پانی کے اخراج کا عمل  تیس سالوں  سے  زیادہ عرصے تک جاری رہے گا ۔ماہرین نے نشاندہی کی کہ فوکوشیما جوہری آلودہ پانی میں درجنوں ریڈیونیوکلائڈز شامل ہیں اور ان میں  بہت سے  ریڈیونیوکلائڈز سے نمٹنے کی ابھی  موثر ٹیکنالوجی بھی نہیں ہے اور وہ سمندری ماحول اور انسانی صحت کے لیے غیرمتوقع نقصانات کا سبب بن سکتے ہیں۔

ماحول کا تحفظ اور فطرت سے محبت جاپان سمیت کافی ممالک کی روایت ہے۔آلودگی میں کمی کے لیے دو ہزار سال قبل قدیم چین میں ایک خاص قسم کا لیمپ تخلیق کیا گیا تھا۔انسانی شکل  کے اس لیمپ میں بننے والا دھواں اور دھول  آستین نما حصے سے ہوتے ہوئے لیمپ کے نجلے حصے تک پہنچتا اور پھر  وہاں   موجود تھوڑا سا پانی اس دھویں  اور دھول کو  مزید کم  کر دیتا ۔یوں فضائی آلودگی کو ہر ممکن کم کیا جاتا۔جاپان میں فطرت  سے محبت اور احترام کی بے شمار مثالیں مل سکتی ہیں۔بچوں کی تصویری کتابوں میں آپ کو بلوط کے بیج یا ایک پتے سے کھیلنے کے  کھیل نظر آ سکتے ہیں ۔کافی ٹی وی سیریز میں آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ لوگ قدرتی خوراک  کی کتنی قدر کرتے ہیں اور ہایاؤ   میازاکی    کی  اینیمیٹڈ فلم میں بھی یہ دکھایا گیا ہے کہ فطرت اور انسان مل کر  کتنی ہم آہنگ موسیقی  ترتیب دے سکتے ہیں ۔

سال 2008 کی ایک اور اینیمیٹڈ فلم " پونیو آن دی کلف"   میں ، ہایاؤ   میازاکی  نے سمندر سے آنے والی پونیو نامی گولڈ فش اور ایک  لڑکے کے درمیان کہانی  دکھائی ۔فلم میں پونیو نامی گولڈ فش سمندر میں کھیلتے وقت  انسانوں کے پھینکے گئے کچرے میں پھنس گئی اور پھر  ایک لڑکے نے اسے بچایا۔اس کے بعد پونیو نے انسان بن کر زمین پر لڑکے کے ساتھ زندگی بسرنے کا فیصلہ کیا۔ پونیو خوش قسمت  تھی کیونکہ اسے بچالیا گیا تاہم یہ ایک  کہانی  تھی ۔ درحقیقت سمندر میں بے شمار جاندار ہیں جس کے بارے میں امید کی جا سکتی ہے کہ وہ جوہری آلودہ پانی سے متاثر نہیں ہونگے لیکن   ان کے مستقبل کا دارو مدار  کسی اینیمیٹڈ فلم پر نہیں بلکہ جاپانی  حکومت اور متعلقہ کمپنی کے ذمہ دارانہ رویے پر ہے۔