امریکہ کا متضاد رویہ چین کے لئے قابلِ عمل نہیں ، سی ایم جی کا تبصرہ

2023/06/06 10:20:13
شیئر:

حالیہ دنوں چین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سےامریکہ کا رویہ کافی متضاد ہے۔ ایک طرف امریکی وزیر دفاع لائیڈ جے آسٹن نے 20ویں شنگریلا ڈائیلاگ میں چین کے لئے غیر مناسب رویہ دکھایا اور دوسری طرف امریکی محکمہ خارجہ کے ایشیا بحرالکاہل کے امور کے معاون وزیر خارجہ  دانیال کریٹنبرنک نے 4 جون کو چین کا دورہ کیا اور چین سے بات چیت کرنے کی کوشش کی۔
امریکہ تصادم کے ساتھ ساتھ بات چیت اور تعاون بھی چاہتا ہے۔ امریکہ غلطی سے چین کو "سب سے بڑے اسٹریٹجک حریف" سمجھتا ہے اور اس پس منظر میں "چین پر سختی کرنا" واشنگٹن کی سیاسی ضرورت بن گئی ہے۔ کوئی بھی امریکی سیاست دان چین سے تعلقات درست کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے کی جرات نہیں کرتا۔  موجودہ شنگریلا ڈائیلاگ میں امریکہ نے ہمیشہ کی طرح اس نظریے کو  فروغ دینے کی کوشش کی کہ چین ایک خطرہ ہے، جس کے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کا تسلط پسندانہ رویہ تبدیل نہیں ہو ا۔
تاہم اس وقت امریکہ کو   اپنا  سنگین معاشی بحران کا سامنا ہے۔ تجزیہ کار وں نے نشاندہی کی ہے کہ امریکی نمائندوں  کو چین بھیجنے کا مقصد امریکی قرض کے بحران کا کوئی حل تلاش کرنا ہے۔ اس کے علاوہ موسمیاتی  تبدیلیوں سے نمٹنے، جوہری پھیلائی، روس یوکرین تنازعہ سمیت دیگر امور پر امریکہ کو چین سے تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر امریکہ کے کچھ لوگ بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصول اور  دوسرے ممالک کی خودمختاری کا احترام نہیں سمجھتے تو ان کو شنگریلاڈئیلاگ میں چینی وزیر دفاع کا بیان دو بارہ پڑھنا چاہیئے۔ تائیوان چین کا تائیوان ہے، تائیوان کے امور کو حل کرنا چینی عوام کا اپنا معاملہ ہے، جس میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کی اجازت نہیں ہے۔ غیر ملکی فوجی طیاروں اور بحری جہازوں کو چین کے سرزمین کے قریب گھومنا نہیں چاہیئے اور  اقوام متحدہ کے  سمندری  کنونشن کی پابندی کرنی چاہیئے۔
چین امریکہ تعلقات کی خرابی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکہ چین کو سمجھنے میں غلطی کر رہا ہے۔چین کےساتھ تعلقات میں امریکہ کو  باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور مشترکہ مفادات پر مبنی تعاون کا خیال رکھنا چاہئے۔