جاپان کا سیمی کنڈکٹر ایکسپورٹ کنٹرول دوسروں اور خود کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے

2023/07/25 13:16:53
شیئر:

23 جولائی کو ، جاپان کے سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ سازوسامان  کی برآمد کو محدود کرنے والے نئے ضوابط سرکاری طور پر نافذ العمل ہوگئے۔ نئے ضوابط کے مطابق امریکہ اور جنوبی کوریا جیسے 42 "دوست ممالک اور خطوں" کے علاوہ ، 23 زمروں کو ہر بار چین کو برآمد کرتے وقت جاپانی وزیر معیشت، تجارت اور صنعت سے اجازت لینے کی ضرورت ہوگی۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جاپان کے اس  اقدام سے چینی اور جاپانی کاروباری اداروں کے مفادات کو شدید نقصان پہنچے گا، چین-جاپان اقتصادی اور تجارتی تعاون کو شدید نقصان پہنچے گا اور عالمی صنعتی چین اور سپلائی چین کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچے گا۔ یہ  مکمل طور پر ایک غیر  منطقی طرز عمل ہے  جو دوسروں اور خود کو فائدہ نہیں پہنچاتا ہے.

گزشتہ سال اکتوبر میں امریکی حکومت نے سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں چین کے خلاف ایکسپورٹ کنٹرول کے اقدامات کو اپ گریڈ کیا تھا اور جاپان اور نیدرلینڈز سے کہا تھا کہ وہ چین کو گھیرنے میں تعاون کریں۔ تاہم معلوم نہیں کہ جاپانی حکومت نے اس بات پر توجہ دی ہےیا نہیں  کہ امریکہ میں چپ کی بڑی کمپنیاں ایک کے بعد دیگر   امریکہ کی اس پالیسی کے حوالےسے وائٹ ہاؤس کو "نہیں" کہہ رہی ہیں جبکہ  جاپان امریکہ  کی  پیروی کررہا ہے۔ کوالکوم اور این ویڈیا سمیت معروف امریکی چپ کمپنیوں کے ایگزیکٹوز نے حال ہی میں امریکی وزیر تجارت ریمنڈو، امریکی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر برینارڈ اور امریکی  صدر کے قومی سلامتی کے مشیر سلیوان اور دیگر سینئر سرکاری حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں  کے دوران  انہوں نے واضح طور پر امریکی حکومت کی جانب سے چین کو چپ کی برآمدات پر مزید پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکہ اور چین کے درمیان زیادہ نتیجہ خیز دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچے گا۔ ایک ہفتہ قبل سیمی کنڈکٹر انڈسٹری ایسوسی ایشن (ایس آئی اے) نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں امریکی کمپنیوں کی جانب سے چین کو چپس کی برآمد پر امریکی حکومت کی پابندیوں کی مخالفت کی گئی تھی۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ چین "دنیا کی سب سے بڑی سیمی کنڈکٹر کمرشل مارکیٹ" ہے اور امریکی کمپنیوں کے لئے "بہت اہم" ہے۔ بیان میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ امریکہ کے یکطرفہ پابندیوں کے اقدامات امریکی سیمی کنڈکٹر صنعت کی مسابقت کو شدید طور پر کمزور کردیں گے، سپلائی چین کو نقصان پہنچائیں گے، اور مارکیٹ میں بڑی غیر یقینی صورتحال کا سبب بنیں گے۔

امریکہ کی جانب سے چین کی ہائی ٹیک انڈسٹری کی ترقی کو دبانے کے لیے جاری کی جانے والی پابندیوں  نے اس کی اپنی کمپنیوں پر پڑنے والے شدید دباؤ اور نقصانات کا احساس دلایا ہے تو جاپان کا کیا ہوگا؟ ٹوکیو الیکٹرانکس اور نیکون جیسے ایک درجن سے زائد کاروباری اداروں کا آپریشن براہ راست متاثر ہوگا۔ جاپانی کمپنیوں کے لئے چینی مارکیٹ  انتہائی اہم ہے۔ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ سازوسامان کی مارکیٹ میں جاپان، عالمی مارکیٹ کا تقریباً 30 فیصد حصہ بنتاہے ، لیکن اس کے پاس مقامی مارکیٹ کی کمی ہے، بلکہ چین جاپانی سیمی کنڈکٹر سازوسامان کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے، جو اس کی برآمدات کا تقریباً 40 فیصد ہے، لہذا یہ برآمدی پابندیاں جاپانی چپ سازوسامان مینوفیکچررز کے لئے ایک بھاری دھچکا ہوں گی. درحقیقت ، جب سے امریکہ نے گزشتہ سال اکتوبر میں چین پر برآمدی کنٹرول نافذ کیا ہے ، چین کو جاپانی سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کی مجموعی برآمد کے حجم میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے ، اور چین کو برآمدی کنٹرول کی وجہ سے پیدا ہونے والے عدم تحفظ نے جاپانی سیمی کنڈکٹر صنعت کی مستقبل کی ترقی میں بڑی غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے۔

امریکہ کی جانب سے چین پر عائد یکطرفہ پابندیاں ایک بار پھر اس کی سنگین سرد جنگ کی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں  ، ڈبلیو ٹی او کے تحت آزاد تجارت کے اصول کی خلاف ورزی کر تی ہیں  ، اور اقتصادی گلوبلائزیشن اور کثیرالجہتی کے منافی ہیں ۔ امریکہ کا مقصد  بہت واضح ہےکہ اپنی عالمی سیمی کنڈکٹر بالادستی کو دوبارہ قائم کرنا، تو کیا  جاپان  نے غور کیا ہے کہ  اس طرح کے فالو اپ کے نتائج کیا ہیں؟

ایک طویل عرصے سے ، چین اور جاپان کے درمیان سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں اپنی اپنی محنت کی واضح تقسیم اور قریبی تعاون ہے ، جو عالمی سیمی کنڈکٹر صنعت کی ترقی اور بین الاقوامی مارکیٹ کے استحکام میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ آج، سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ سازوسامان  کی برآمد کو محدود کرنے والے جاپان کے نئے ضوابط کے نفاذ نے معیشت، تجارت اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں چین-جاپانی تعاون کی اچھی بنیاد کو نقصان پہنچایا ہے، چین کی بڑی مارکیٹ کھو دی ہے، جاپان اور اس کے متعلقہ  کاروباری اداروں کے مفادات اور ترقیاتی اعتماد اور امکانات کو نقصان پہنچایا ہے، اور پورے مشرقی ایشیا اور یہاں تک کہ دنیا بھر میں سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں صنعتی  چین اور سپلائی چین کی حفاظت اور استحکام کو متاثر کیا ہے. اس سے یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ جاپان کا یہ اقدام دوسروں اور خود  اس کے لیے واقعی نقصان دہ ہے اور اس اقدام سے  اس کی اپنی معیشت، سائنسی و تکنیکی ترقی اور بین الاقوامی ساکھ پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور  اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات اندازوں سے کہیں زیادہ ہوں گے۔