چین دنیا میں توانائی کی تبدیلی میں اہم شراکت دار

2023/12/13 15:41:33
شیئر:

حالیہ برسوں میں گلوبل وارمنگ، شدید موسمی واقعات کا مسلسل رونما ہونا اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات, بین الاقوامی برادری کی توجہ کا مرکز اور ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں ہے جسے فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ چونکہ روایتی توانائی کی کھپت ناگزیر طور پر آب و ہوا کی تبدیلی کا سبب بنتی ہے ، لہذا  توانائی کے حصول کے نئے طریقوں میں  ترقی عالمی سطح پر  وسائل کے بحران اور آب و ہوا کی تبدیلی سے نمٹنے کا لازمی حصہ بن گئی ہے۔ چند روز قبل موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن (کاپ  28) کے فریقین کی 28 ویں کانفرنس کی ذیلی تقریب چائنا کارنر میں منعقد ہوئی  جس کا موضوع تھا  " کاربن پیکنگ اور کاربن نیوٹریلٹی " کی چینی کہانی ۔   چین نے " کاربن پیکنگ اور کاربن نیوٹریلٹی " کے اپنے عزم کو حاصل کرنے کے لیے توانائی کے ڈھانچے کو تبدیل اورسبز اور کم کاربن  میں منتقلی کے عمل کو تیز کیا ہے اور دنیا بھر کے ممالک کے لیے سبز، کم کاربن اور اعلیٰ معیار کی ترقی کا ایک نیا راستہ فراہم کیا ہے۔

ایک وقت تھا کہ کوئلے، تیل، قدرتی گیس اور دیگر فوسل ایندھن پر غلبہ حاصل کرنے والی صنعت کاری نے  دس  سے زائد ممالک کو جدید بنانے اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں داخل ہونے کے قابل بنایا تھا ۔ آج، عالمی توانائی کی تبدیلی  ایک نئے دور میں داخل ہوگئی ہے، جو دنیا بھر کے ممالک کے لئے موقع اور چیلنج دونوں ہے. ترتیب نو  اور ترقی کو کس طرح متوازن کیا جائے،  یہ تمام ممالک کے لئے ایک بہت مشکل کام ہے ، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لئے جو  اب بھی روایتی توانائی پر کافی انحصار کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں چین کے طرز عمل اور ترقی نے ترقی پذیر ممالک کے لئے توانائی کی تبدیلی  اور سبز ترقی کے لحاظ سے سوچنے کا ایک مختلف انداز فراہم کیا ہے۔

چین کی گرین انرجی  منتقلی نے  اس  روایتی سوچ  کو ختم کر دیا ہے  کہ  ایسا ہدف سو سال میں بھی  حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ چین  نے  ترقی یافتہ ممالک کے فطری تجربے  میں خود کو مقید نہیں  کیا ،یعنی  اعلی کھپت والی روایتی صنعتوں کی مکمل ترقی کے بعد  سبز صنعتوں کو فروغ دیا جائے ۔ چین نے بڑے پیمانے پر  غیر فوسل توانائی کے استعمال کو فروغ   دیتے ہوئے توانائی کے ڈھانچے کو بہتر  بنانے کی کوشش کی تاکہ تیز رفتار اور موثر توانائی کی تبدیلی  اور سبز ترقی کے مقصد کے حصول میں پائیدار ترقی کا  مقصد  حاصل کیا جا سکے.

2012 سے 2022 تک ، چین کے صنعتی اداروں کی  ویلیو ایڈڈ  میں مقررہ  توانائی کی کھپت میں 36فیصد  سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی  ، لیکن اس عرصے کے دوران ، چین کی مینوفیکچرنگ ویلیو ایڈڈ  کئی سالوں  تک دنیا  کے پہلے نمبر پر رہی  ، اور 2012 کے بعد سے ، چین  نے   اوسطا سالانہ توانائی کی کھپت میں   3 فیصد کی شرح نمو   سے  6.6 فیصد کی اوسط سالانہ  ترقی کی شرح  میں معاونت  کی ہے ۔ یہ اعدادو شمار ظاہر کرتے ہیں کہ چین کی ترقی کو  ایک نئی  قوت ملی ہے۔ اور اس محرک قوت کا ایک اہم ذریعہ توانائی کی سبز تبدیلی ہے۔

اس سال، چین کی قابل تجدید توانائی کی  نصب شدہ صلاحیت تاریخی طور پر کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی سے تجاوز کر گئی ہے، جس میں  اس سال کی پہلی ششماہی میں فوٹو وولٹک بجلی کی پیداوار کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت تقریبا 470 ملین کلو واٹ ہے، جو  چین میں بجلی  حاصل کرنے کا دوسرا سب سے بڑا ذریعہ ہے.

رواں سال کی پہلی ششماہی میں چین کی آٹوموبائل برآمدات نے جاپان کو پیچھے چھوڑ تے  ہوئے دنیا میں پہلے نمبر پر رہیں ، جن میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی کارکردگی خاص طور پر  قابل ذکر ہے ۔ اس وقت دنیا کی نصف سے زائد نئی انرجی گاڑیاں چین میں چلائی جاتی ہیں اور رواں سال کے پہلے 10 ماہ میں 9 لاکھ 95 ہزار نئی انرجی گاڑیاں برآمد کی گئیں جو گززشتہ سال کے مقابلے میں  99.1 فیصد کا  اضافہ ہے۔ برقی گاڑیوں، لیتھیم بیٹریوں اور شمسی خلیوں کی نمائندگی کرنے والی "  تین  نئی مصنوعات " کی برآمد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور  جہاں مسلسل 14 سہ ماہیوں سے ڈبل ڈیجٹ نمو برقرار ہے۔ اس کے علاوہ  عالمی پاور بیٹری انڈسٹری کے بنیادی سپلائی سسٹم کا 80فیصد سے زیادہ چین میں ہے.

دوسری طرف ، چین قابل تجدید توانائی کی لاگت کو نمایاں طور پر کم کرنے کے لئے تکنیکی جدت طرازی میں اضافہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ 2023 میں ، چین میں پی وی ماڈیولز کی قیمت 2010 کے مقابلے میں 90فیصد سے زیادہ  کم ہوئی ہے ، جبکہ پون  بجلی کی لاگت میں 80فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس وقت چین دنیا کی 50 فیصد پون  بجلی اور 80 فیصد فوٹو وولٹک آلات فراہم کرتا ہے۔  سو یہ کہنا درست  ہو گا کہ چین نے قابل تجدید توانائی کی ترقی میں عالمی سطح پر  بہت بڑا حصہ ڈالا ہے اور دنیا بھر میں قابل تجدید توانائی کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کے لئے بہت مضبوط  بنیاد رکھی ہے۔

توانائی  کی تبدیلی اور جدت طرازی کے ساتھ ساتھ سبز ترقی سے چلنے والی اسٹریٹجک ابھرتی ہوئی صنعتوں کے لئے چین کے عزم نے نہ صرف کاربن پیکنگ  اور کاربن  نیوٹریلٹی کے لئے  چین کے وعدوں کی تکمیل  کی ٹھوس بنیاد رکھی ہے ، بلکہ چین کی اعلی معیار اور پائیدار معاشی ترقی میں بھی نئی قوت  پیدا کی ہے  جس نے  چین کو عالمی  آب و ہوا کی تبدیلی اور توانائی کی منتقلی کی ترقی میں ایک اہم شراکت دار بنا دیا ہے۔