مقامی وقت کے مطابق 15 اکتوبر کو چینی وزیر اعظم لی چھیانگ نے ایوان صدر اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی۔
لی چھیانگ نے سب سے پہلے صدر شی جن پھنگ کی جانب سے صدر زرداری کو نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔ لی چھیانگ نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ اور پاکستانی قیادت کی رہنمائی میں چین پاک چاروں موسموں کی اسٹریٹجک شراکت داری تیزی سے گہری ہو رہی ہے، "بیلٹ اینڈ روڈ" کی اعلی معیار کی مشترکہ تعمیر کے ٹھوس نتائج برآمد ہوئے ہیں، اور اس کی بنیادیں مضبوط ہوئی ہیں۔ چین پاکستان کے ساتھ قریبی اعلیٰ سطحی روابط کو برقرار رکھنے، ملک کی طر ز حکمرانی میں تجربات کے تبادلے کو مضبوط بنانے اور ایک دوسرے کے بنیادی مفادات سے متعلق امور پر ایک دوسرے کی مضبوطی سے حمایت کرنے کے لیے تیار ہے۔ چین پاکستان کے ساتھ ترقیاتی حکمت عملیوں کو مضبوط بنانے، اقتصادی اور تجارتی تعاون کو وسعت دینے، عوامی اور ثقافتی تبادلوں کو گہرا کرنے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کو اعلیٰ معیار کے مشترکہ منصوبے کے طور پر تعمیر کرنے کا خواہاں ہے۔ چین سیکیورٹی کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے تیار ہے اور اسے یقین ہے کہ پاکستان چینی اہلکاروں، اداروں اور منصوبوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا رہے گا۔
صدر زرداری نے کہ بین الاقوامی حالات چاہے کیسے بھی تبدیل ہوئے ہوں، پاکستان اور چین کے تعلقات ہمیشہ ثابت قدمی سے آگے بڑھے ہیں اور نئی سطح کی جانب گامزن رہے ہیں۔ پاکستان ون چائنا کے اصول پر مضبوطی سے کاربند ہے اور یہ کہ تائیوان چین کی سرزمین کا ایک ناقابل تقسیم حصہ ہے۔ پاکستان ہمیشہ کی طرح ایک دوسرے کے بنیادی مفادات سے متعلق معاملات پر چین کے ساتھ مضبوطی سے حمایت کرے گا۔ پاکستان چین کے ساتھ اعلیٰ سطحی تبادلوں کو برقرار رکھنے، چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر کو فروغ دینے اور تجارت، سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر، ہیومینٹیز اور دیگر شعبوں میں تعاون کو تیز کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو مزید فائدہ پہنچے۔ پاکستان چینی شہریوں، اداروں اور پاکستان میں چینی منصوبوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔